Justuju Tv جستجو ٹی وی


کلیات اشعر - دیوان تلخ و شیریں میں خوش آمدید

Showing posts with label تلخ و شیریں، منیف اشعر، کینیڈا میں اردو، جدید اردو غزل، جستجو میڈیا. Show all posts
Showing posts with label تلخ و شیریں، منیف اشعر، کینیڈا میں اردو، جدید اردو غزل، جستجو میڈیا. Show all posts

Wednesday, April 29, 2009

درد کی اب کچھ دوا کرجائیے



Align Center



درد کی اب کچھ دوا کرجائیے

یا دل ِبسمل فنا کرجائیے


کچھ تو تخفیفِ سزا چاہیے

قیدِ ہستی سے رہا کرجائیے


یوں نہ رستہِ پر رہیں آنکھیں مری

کوئی تو ایسی دعا کرجائیے


عشق پر احسان ہوگا آپ کا

چاک مجنوں کی قبا کرجائیے


اک چنگاری ہو ا کو دیجیے

آپ تو بس ابتدا کرجائیے


ساقیا اک جام دے کر شیخ کو

ہوش کی باتیں عطا کرجائیے


آئیے تو کیجیے شکوے ہزار

جائیے تو دل ملا کر جائیے


کون کہتا ہے کہ تاریکی تمام

آپ ہی یکسر مٹا کر جائیے


کون کہتا ہے کہ دیجیے آفتاب

صرف روشن اک دیا کرجائیے


یہ بھی اےاشعؔر اگر ممکن نہیں

ناامّیدی کو سوا کرجائیے


اعتبار اک شخص پر یوں عمر بھر کرتے رہے






اعتبار اک شخص پر یوں عمر بھر کرتے رہے

وعدۂ فردا پہ ہر شب کی سحر کرتے رہے


بیٹھ کر سورج تلے ہم زندگی کی شام تک

انتظارِ سایۂ برگ و شجر کرتے رہے


میں تو بس دستِ قلم رکھتا ہوں نبضِ وقت پر

دوست میرے زندگی وقفِ ہنر کرتے رہے


جھیل لینا گھر میں رہ کر اپنے گھر کی مشکلات

ورنہ اُنکو دیکھ لینا جو سفر کرتے رہے


کر تو سکتے تھے جواباً ہم بھی کچھ، پرفطرتاً

دشمنی سے آپ کی صرفِ نظر کرتے رہے


میں اُسے کیا نام دوں مندر کہوں کعبہ کہوں

دل وہ جس میں نیک و بد مل کر بسر کرتے رہے


قافلے والوں کو دکھلا کر نئی منزل کا خواب

رہزنوں کی سرپرستی راہبر کرتے رہے


کیا ملا اشعؔر تمہیں کھو کر قناعت کا سُکوں

خواہشیں بڑھتی رہیں خونِ جگر کرتے رہے


سفر میں تھا تو فریبِ نظر گماں ٹھہرا






سفر میں تھا تو فریبِ نظر گماں ٹھہرا

سراب ہوگیا دریا گماں جہاں ٹھہرا


اے زندگی مجھے تجھ سے بڑی امّیدیں تھیں

پر اعتبار ہی تیرا دھواں دھواں ٹھہرا


تمہارے ہاتھ کی لرزش نے راز کھول دیا

تمہارا نامۂ تردید بے اماں ٹھہرا


تری گلی کا وہ پتھر گلاب تھا شاید

کہ جس کا زخم بھی مثلِ بہارِ جاں ٹھہرا


تمہاری بزم میں آکر بھی تم سے دور رہے

یہ ضبطِ دل کے لیے خوب امتحاں ٹھہرا


تمہارے ساتھ جو دو چار گام چل بیٹھا

کہاں ملی اُسے منزل وہ پھر کہاں ٹھہرا


نگاہ ملتے ہی بے خود کسی کا ہوجانا

یہ جذبِ دل ہی تو اشعؔر متاعِ جاں ٹھہرا


میرے دکھ سے جو بے خبر ٹھہرا








میرے دکھ سے جو بے خبر ٹھہرا

اک وہی شخص چارہ گر ٹھہرا


بام و در بے شمار دیکھ لیے

گھر تو بس ایک اپنا گھر ٹھہرا


داستاں ہوگئی ہے پھر تسلیم

واقعہ پھر نہ معتبر ٹھہرا


ظلم کرنا بُرا ہے سہنا بھی

کیا کروں میں کہ بے سپر ٹھہرا


دور ہوکر بھی میرا پاک وطن

جاں فزا سایہء شجر ٹھہرا


مسجدوں میں بنادیےمقتل

بے نظیر آپ کا ہُنر ٹھہرا


آپ منصف ہیں اپنا کام کریں

کیا ہوا گر وہ بااثر ٹھہرا


آپ اورشکوۂ وفا اشعؔر

کیا وفا دار کوئی گھر ٹھہرا


کہاں کا شاہ، کہاں کا امیر ہونا تھا







کہاں کا شاہ، کہاں کا امیر ہونا تھا

ہمیں تو تیری گلی کا فقیر ہونا تھا


ثبوت اُن سے محبّت کا خود ہی مل جاتا

تجھے بھی داعیء حق اور نذیر ہونا تھا


گدائے شہر مدینہ بھی ٹھیک ہے لیکن

مرا مقام غلامِ حقیر ہونا تھا


ہوئی ہے آبلہ پائی نصیب یوں کہ مجھے

محبّتوں کے جہاں کا سفیر ہونا تھا


ترا یہ سب و شتم تجھ کو خود بُرا لگتا

ذرا سی دیر کو پیشِ ضمیر ہونا تھا


قدم بہک گئے لغزش ہوئی سزا بھگتو

تمہارےقابو میں اپنا شریر ہونا تھا


مُریدِ نفس ہوئے جارہے ہو جب کہ تمہیں

اب ایسی عمر میں اک شخصِ پیر ہونا تھا


خدا سے تجھ کو اگر برکتوں کی خواہش تھی

کسی کے حق میں تجھے دستگیر ہونا تھا


مَنُش تھے ہم بڑے آزاد قسم کے اشعؔر

پر ایک دن تو ہمیں بھی اسیر ہونا تھا


تعلّق کیا ہوا قائم کسی سے







تعلّق کیا ہوا قائم کسی سے

محبّت ہوگئی ہے زندگی سے


تبسّم میں جو دکھ ٹھہرے ہوئے ہیں

وہ بہہ جائیں نہ آنکھوں کی نمی سے


نظر حوروں پہ سر سجدہِ میں زاہد

یہی اخلاص ہے کیا بندگی سے


ہمارے گھر ہے تنہائی کا موسم

ہمیں کیا موسموں کی دلکشی سے


تجھے سمجھاؤں کیا ناصح کہ تیرا

تعارّف ہی نہیں دل کی لگی سے


یہ حسرت ساتھ ہی جائے گی شاید

محبّت بے غرض ملتی کسی سے


اُٹھا دستِ طلب جب بھی ہمارا

لڑائی چھڑ گئی اپنی خودی سے


اندھیرا شہر میں کیسے نہ کرتا

اُسے ڈر لگ رہا تھا روشنی سے


بہادو آنکھ سے اشعؔر غمِ دل

ٹھہر جائے نہ اشکوں کی کمی سے


Design & Content Managers

Design & Content Managers
Click for more Justuju Projects