Justuju Tv جستجو ٹی وی


کلیات اشعر - دیوان تلخ و شیریں میں خوش آمدید

Thursday, April 16, 2009

ساتھ



نفرتیں احباب کی یوں دوستی کے ساتھ ہیں

جیسے نادیدہ اندھیرے روشنی کے ساتھ ہیں


اب قلندر کی صدا میں کیا کشش پائیں گے لوگ

آج تو سب مال و زر کی دلکشی کے ساتھ ہیں




کون خوشیوں پر کرے تکیہ جو کل تک ہوں نہ ہوں

درد و غم اپنائیے جو زندگی کے ساتھ ہیں


خود فریبی ہے کہ میں اُس کے لیے سجدہِ میں ہوں

ورنہ کتنی خواہشیں اس بندگی کے ساتھ ہیں




ضربِ تیرِ نیم کش کا لطف کچھ ہم کو بھی دے

ہم بھی اپنی آرزوئے خودکشی کے ساتھ ہیں


کیسے آجائیں ابابیلیں لئے کنکر کہ ہم

جنگِ بے مقصد میں شامل بے دلی کے ساتھ ہیں




ہوسکے تو دوستوں میں کچھ تبسّم بانٹ دو

غم کے افسانے تو ورنہ ہر کسی کے ساتھ ہیں


برہمی و بے رُخی سے واسطہ پڑنا ہی تھا

عشوہ و ناز و ادا تو عاشقی کے ساتھ ہیں




وہ ہمارا ہم سفر ہونے نہیں پایا مگر

ہم اسی کے ساتھ تھے اشعؔر اُسی کے ساتھ ہیں


***





No comments:

Design & Content Managers

Design & Content Managers
Click for more Justuju Projects