Justuju Tv جستجو ٹی وی


کلیات اشعر - دیوان تلخ و شیریں میں خوش آمدید

Wednesday, April 29, 2009

دل فریبی کے لیے منظر بھی دلکش چاہیے




دل فریبی کے لیے منظر بھی دلکش چاہیے

توڑنے کو دل مرا پتھر بھی دلکش چاہیے


ہاں یہ ممکن ہے کہ میں پی کر بہک جاؤں مگر

صرف مئے کافی نہیں ساغر بھی دلکش چاہیے


ہر جگہ مجھ سے جبیں سائی کی امّیدیں نہ رکھ

آستاں کہدوں جسے وہ در بھی دلکش چاہیے


چین سے سونے نہیں دیتی شکن آلودگی

صرف کمرہ ہی نہیں بستر بھی دلکش چاہیے


ہم نے مانا آپ کے اندر چراغاں ہے مگر

اک دیا اثبات کو باہر بھی دلکش چاہیے


مل تو سکتا ہے لقب شاہین کا لیکن حضور

التزام  ِجُراَت و شہپر بھی دلکش چاہیے


ہے غُبارِ کارواں پیچھے اندھیرا سامنے

اور امیرِ کارواں اس پر بھی دلکش چاہیے


زخمِ تازہ سرخرو لگتے ہیں اوپر سے سبھی

زخمِ دل کو اک کسک اندر بھی دلکش چاہیے


اوک سے پینے میں بھی اک لطف ہے لیکن مجھے

صاف سا پانی بھی اور گاگر بھی دلکش چاہیے


یوں غزل کہنے کو اک صحرا میں اشعؔر کی طرح

دردِ دل کے ساتھ اک دلبر بھی دلکش چاہیے


No comments:

Design & Content Managers

Design & Content Managers
Click for more Justuju Projects