Justuju Tv جستجو ٹی وی


کلیات اشعر - دیوان تلخ و شیریں میں خوش آمدید

Wednesday, April 29, 2009

ہر اک ذی ہوش پر اب تو عیاں ہے رات کا موسم




ہر اک ذی ہوش پر اب تو عیاں ہے رات کا موسم

اب اپنے شہر سے جاتا کہاں ہے رات کا موسم


امیرِ شہر گر پوچھے کہاں ہے رات کا موسم

تو کہنا بے ضمیروں سے نہاں ہے رات کا موسم


نہ سورج کی حرارت ہے نہ بادل اور نہ بارش ہے

چمن کیسے پھلے پھولے خزاں ہے رات کا موسم


زبانیں کاٹ دی جاتی ہیں جن کی غور سے دیکھو

انہی کی بے زبانی میں بیاں ہے رات کا موسم


سبھی مہمانِ مقتل منتظر ہیں اپنی باری کے

اور اک سفّاک قاتل میزباں ہے رات کا موسم


گلا سچّائی کا اندازِ مثبت گھونٹ کیسے دے

سویرا کیسے لکھ ڈالوں رواں ہے رات کا موسم


بری الذمّہ تو میں بھی نہیں میں نے بھی روکا تھا

میں سمجھا، دو گھڑی کا مہماں ہے رات کا موسم


ہر اک موسم مزاجِ وقت کا مرہون ہے اشعؔر

جہاں کل صبحِ روشن تھی وہاں ہے رات کا موسم


No comments:

Design & Content Managers

Design & Content Managers
Click for more Justuju Projects