Justuju Tv جستجو ٹی وی


کلیات اشعر - دیوان تلخ و شیریں میں خوش آمدید

Wednesday, April 29, 2009

نہ کوئی دریا نہ دریا کے خواب دیکھےہیں







نہ کوئی دریا نہ دریا کے خواب دیکھےہیں

جدھر نِگاہ اُٹھائی سراب دیکھے ہیں



تمہیں نہ دیکھا تھا جب تک تو سہل تھا جینا

تمہاری راہ میں غم بے حساب دیکھے ہیں


بنا رہا تھا میں بیٹھا طویل منصوبے

کہ میں نے مٹتے ہوئے کچھ حباب دیکھے ہیں


وہ جس نے ہم پہ محبّت کی بارشیں کی ہیں

اُسی نگاہ میں لاکھوں حجاب دیکھے ہیں


قرارِ امن، محبّت، وفا، نویدِ سحر

یہ کیا ہوا ہے مجھے، کیسے خواب دیکھے ہیں


تمہاری قوّتِ زر ہم سے ہار جائے گی

تمہارے جیسے ہزاروں جناب دیکھےہیں


کسے بتاتے ہو اشعؔر یہ فرقِ ملّت و قوم

جہاں نے قوموں کے لائے عذاب دیکھے ہیں


No comments:

Design & Content Managers

Design & Content Managers
Click for more Justuju Projects