Justuju Tv جستجو ٹی وی


کلیات اشعر - دیوان تلخ و شیریں میں خوش آمدید

Thursday, April 23, 2009

مُضطرب آنکھوں کا طرزِ گفتگو اچھا لگا









مُضطرب آنکھوں کا طرزِ گفتگو اچھا لگا

اُن کو پہلی بار حَرفِ آرزو اچھا لگا

مل نہ پائی مختصر سی زندگی میں آگہی

عمر بھر لیکن یہ کارِ جسُتجو اچھا لگا

درد کی صورت جو دل کے آئینے پر ثبت ہے

عکس ہے تیرا کہ شہرِ رنگ و بو اچھا لگا

ڈوب کر آئینہ بھی دیکھا کیا تم کو مگر

سچ کہو میں یا تمہیں میرا عَدُو اچھا لگا

تجھ کو دیکھا ہی کہاں دنیا نے میری آنکھ سے

ورنہ ہر لب پر یہی ہوتا کہ تُو اچھا لگا

وہ ہمیں جس طور سے بھی آج تک ملتا رہا

ہم کو بھی ہر صورت میں اپنے رُو بہ رُو اچھا لگا

آپ کی نسبت سے رسوائی بھی ٹھہری معتبر

وحشتِ اشعؔر کا قصّہ کوُبہ کُو اچھا لگا


No comments:

Design & Content Managers

Design & Content Managers
Click for more Justuju Projects